Who we are

تحریک پاکستان پر بہت ساری کتب لکھی گئی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی لیکن ان کتب کی اہمیت زیادہ ہوگی جو پاکستان بننے کے فوری بعد مکمل کی گئیں یا جن کے راوی خود تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے گواہ ہیں۔ میں نے جب اس موضوع پر 2007ء میں قلم اٹھایا تو احساس ہوا کہ مجھے اس پر بہت پہلے کام کرنا چاہئے تھا۔ ستمبر 2007ء میں پاکستان کو معرض وجود میں آئے 60 سال ہو چکے تھے۔ ہماری تقریباً دو نسلیں اللہ کو پیاری ہو چکی تھیں۔ ایک نسل وہ اللہ کو پیاری ہوئی جن کی عمریں قیام پاکستان کے وقت 70 سال سے اوپر تھیں اور یہ بڑھاپے کی حالت میں پیدل یا ریل گاڑیوں میں سوار ہو کر اپنے نئے وطن میں آئے‘ ان میں سے اکثر یا 99 فیصد لوگ 1965 ء کی جنگ سے پہلے وفات پا گئے۔ دوسری نسل کی اکثریت بھی اب اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئی ہے جن کی عمریں قیام پاکستان کے وقت 28 سال سے 69 سال تک تھیں ان میں بھی 98 فیصد لوگ اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ 2007ء میں تیسری نسل کے وہ لوگ اکثریت میں موجود تھے جن کی پیدائش 1920ء سے لے کر 1930ء کے درمیان تھی اور قیام پاکستان کے وقت ان کی عمریں 17 سال سے لے کر 27 سال تک تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو قیام پاکستان اور تحریک پاکستان کے آخری گواہ ہیں۔ اب جبکہ یہ کتاب 2013ء میں پرنٹ ہو کر مارکیٹ میں آگئی ہے تو 1920ء سے لے کر 1930ء کے درمیان پیدا ہونے والے 75 فیصد لوگ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنا وطن‘ گھر بار‘ مال و متاع چھوڑ کر اور قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان آئے تھے ان کی کثیر تعداد 75 فیصد تا 80 فیصد اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔
میں نے کتاب شروع کرتے وقت بہت سارے دوستوں‘ ادیبوں‘ صحافیوں اور قومی اخبارات کے ایڈیٹرز حضرات سے استدعا کی کہ قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والے مہاجرین کی تقریباً پچیس فیصد تعداد اب بھی بقید حیات ہے‘ ان لوگوں کے انٹرویوز کرنے چاہئیں۔ یہ کہ ہمیں مشرقی پنجاب کے ہر ضلع کی علیحدہ علیحدہ ریسرچ کرنی چاہئے کہ وہاں کس کس گاؤں میں کتنی قیمتی جانیں ضائع گئیں اور کتنی عورتیں اغواء ہوئیں اور ہر ضلع کیلئے دس آدمی مقرر کر دیئے جائیں جو ان اضلاع سے ہجرت کر کے آنے والوں کے انٹرویوز کریں۔ اگر ہر ضلع میں 800 گاؤں بھی ہوں تو آسانی سے چھ ماہ کے اندر یا ایک سال کے اندر ہر گاؤں کے کوائف جمع ہو سکتے ہیں۔ مگر نہ جانے کیوں میری اس بات پر کوئی کان نہیں دھرا گیا۔
میں نے اللہ کے فضل وکرم سے تن و تنہا اپنے والد کے آبائی ضلع لدھیانہ کے تقریباً 900 دیہاتوں اور قصبوں کیلئے ریسرچ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ ستمبر 2007ء میں اللہ کا نام لے کر نکل کھڑا ہوا۔ فیصل آباد‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ گوجرہ‘ کمالیہ‘ رجانہ‘ شورکوٹ‘ حافظ آباد‘ شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں بسنے والے ضلع لدھیانہ کے ادھیڑ عمر لوگوں سے ملتا رہا۔ میں نے اس ریسرچ میں کوشش کی جو آدمی اپنے گاؤں کے کوائف اور ہجرت کے وقت کے واقعات بتائے‘وہ سچا اور مخلص آدمی ہو اور اس کی یادداشت درست ہونی چاہئے۔ میں عموماً 75 سال تا 90 سال کی عمر لوگوں کے انٹرویوز لیتا رہا۔

ستمبر 2007ء سے فروری 2010ء تک یعنی اڑھائی سالوں میں میں نے لدھیانہ کے 300 مختلف گاؤں کے لوگوں کے انٹرویوز کئے اور ان کے گاؤں کے حالات اور ہجرت کے واقعات قلمبند کئے۔ پھر اس دوران لاہو رمیں تحریک کارکنان پاکستان کے دفتر میں تحریک پاکستان پر کتب لکھنے والے دوستوں نے گائیڈ کیا کہ لدھیانہ کے دیہاتوں سے پہلے لدھیانہ شہر کے لوگوں کا انٹرویو کیا جائے اور ان سے تحریک پاکستان میں لدھیانہ شہر کے مقامی لوگوں کی Participation کا پتہ کیا جائے اور یہ بھی پتہ کیا جائے کہ کہ ان لوگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں اور لدھیانہ شہر کے کتنے افراد شہید ہوئے۔ میں نے لدھیانہ کے دیہاتوں پر ریسرچ ایک طرف رکھ کر لدھیانہ شہر پر ریسرچ شروع کر دی۔ لدھیانہ شہر کے معتبر اور معزز لوگوں کی اولادوں کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ اس کیلئے مختلف شہروں میں جانا پڑا جن میں کراچی‘ ملتان‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ سیالکوٹ‘ جہلم اور دیگر چھوٹے شہر شامل تھے۔ مارچ 2010ء میں لدھیانہ شہر پر کام کرنا شروع کیا اور مارچ 2013ء تک تقریباً تین سالوں میں مکمل ہوا۔
جیسا کہ ریسرچ کا کام کرنے والوں کو علم ہے کہ ”ایسی کتابیں جن پر ریسرچ کا کام کیا جاتا ہے اور جس کے راوی بہت سارے لوگ ہوں تو ان کتب کے صفحات زیادہ ہو جاتے ہیں اور کتاب بھاری بھرکم ہو جاتی ہے۔ پڑھنے والا عام قاری ایسی کتب کا حجم دیکھ کر مشکل محسوس کرتا ہے مگر جن لوگوں کے بارے میں کتاب لکھی جاتی ہے وہ تو ممنون ہوتے ہیں۔ یہ کتاب بھی 1700 صفحات پر مشتمل ہے۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب میں لدھیانہ شہر کے 100 معتبر خاندانوں کے انٹرویوز ہیں۔ کتاب میں ہر راوی کا تعارف‘ اس کی فوٹو‘ اس کے خاندان کا شجرہئ نسب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ راوی کے گھرانہ کی ہجرت اور قیام پاکستان میں ان کے خاندان کی قربانیوں کی کہانی بھی موجود ہے۔
اس طرح اس کتاب میں راوی پر بیتنے والے واقعات کی صحت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ تحریک پاکستان پر لکھی جانے والی وہ کتابیں جو سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں۔ان کی صحت پر 100 فیصد یقین نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب لکھنے کا اصل مقصد نئی نسل کو پاکستان بنانے کی اہمیت بارے بتانااور یہ بھی بتانا کہ یہ ملک خداداد ایسے ہی حاصل نہیں ہوا اس کے لئے 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کی قربانیاں اور 84 ہزار سے زائد خواتین کے اغواء کی سسکیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپنا گھر بار‘ کھیت اورآباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر یہ پیارا وطن حاصل کیا گیا ہے۔
آئیے! وعدہ کریں کہ ہم اس ملک کیلئے اپنا تن من نچھاور کر دیں گے اور مملکت پاکستان کو دنیا کا صف اول کا ملک بنا کر رہیں گے۔ یہ ملک جس مقصد کیلئے بنایا تھا ہم وہ مقصد حاصل کر کے رہیں گے۔ یہ ملک ایسا ہوگا جہاں انصاف کا دور دورہ ہوگا‘ خوشحالی کی فصلیں ہر طرف لہراتی ہوں گی۔ غربت اور محتاجی کا نشان تک نہ ہوگا۔ زکوٰۃ لینے والے نظر نہیں آئیں گے اور یہ ملک ایسا ہوگا جسے دیکھ کر دوسرے ممالک بھی کہیں گے کہ کاش ہم پاکستان کا حصہ ہوتے۔ پاکستان زندہ باد!

محمد اسلم
ستمبر 2013ء

Copyright 2022-2023

Made with by Muhammad Anis

All Rights Reserved